16 دسمبر 2012 - 20:30

سعودی شہزادے ولید بن طلال نے اپنے پہلے اور سب سے بڑے ذاتی طیارے کو اپنی تحویل میں لینے سے قبل دعوی کیا کہ ان کی سالانہ آمدنی صرف ایک سعودی ریال ہے! / آل سعود نے تیل کی پیداوار کے تمام سابقہ ریکارڈ توڑ دیئے ہیں لیکن بلادالحرمین میں غربت و بےروزگاری میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق مشرق وسطی کے لئے ائیربس کمپنی کے سربراہ "حبیب فقیہ" نے اعلان کیا ہے کہ سعودی شہزادے ولید بن طلال 2013 میں اپنا ذاتی 380 ای ايئربس طیارہ اپنی تحویل میں لے سکیں گے۔ عربین بزنس (Arabian Business) کی رپورٹ کے مطابق یہ جیٹ طیارہ "اڑتا ہوا محل (Flying Palace) کہلاتا ہے؛ جس میں چار نہایت پرتعیش پلنگ نصب کئے گئے ہیں؛ حمام کا ایک باتھ ٹب، رولز رائس کار کے لئے جگہ، ایک کانفرنس ہال، جشن کے لئے ایک ہال، پانچ شاہانہ لاجز اور ایک برقی نمازخانہ قرار دیا گیا ہے جو خودکار طور پر طیارے کی گردش کے ساتھ قبلہ رخ ہوتا رہے گا۔ اس تین منزلہ طیارے کی مختلف منزلوں کو ایک دوسرے سے متصل کرنے کے لئے ایک لفٹ بھی نصب کیا گیا ہے۔اطلاعات کے مطابق یہ طیارہ 48 کروڑ پچاس لاکھ کی لاگت سے تیار کیا گیا ہے اور یہ اس قسم کا پہلا طیارہ ہے جو ذاتی طیارے کے طور پر فروخت کیا گیا ہے تا ہم توقع کی جاتی ہے کہ یہ طیارہ سعودی شہزادے کی تحویل میں دیئے جانے کے بعد اس کی مانگ میں اضافہ ہوگا۔ ادھر عرب اخبار "سبق" نے اس شہزادے کو عرب دنیا کا سب سے زیادہ صاحب ثروت مرد قرار دیتے ہوئے لکھا ہے: بن طلال کا دعوی ہے کہ ان کی سالانہ آمدنی صرف ایک سعودی ریال ہے۔ عالم اسلام کی قیادت کے مدعی اور خدمت حرمین کے دعویدار سعودی خاندان کے اس شہزادے نے تضادّ گوئی سے کام لیتے ہوئے کہا کہ ان کی کمپنی "المملکہ" کے شیئرز میں 147 فیصد اضافہ ہوا ہے تا ہم ان کی سالانہ ذاتی آمدنی صرف ایک سعودی ریال ہے۔ غربت اور بےروزگاری ایک ایسے ملک میں جس نے تیل کی پیداوار کے سابقہ ریکارڈ توڑ ڈالے ہیںامریکی اخبار نے لکھا ہے کہ آل سعود کے شہزادے سالانہ کھربوں ڈالر تیل بیچ کر ثروت اندوزی کرتے ہیں لیکن بلادالحرمین کے مختلف علاقوں میں غربت و بےروزگاری میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ واشنگٹن پوسٹ کے مطابق حالیہ مہینوں میں سعودی عرب کے مختلف شہروں اور قصبوں میں غرب و بےروزگاری کی شرح میں شدید اضافہ ہوا ہے، 2 کروڑ کی آبادی والے ملک میں چالیس لاکھ افراد کی زندگی غربت کی لکیر (Poverty Line) سے نچلی سطح پر ہے اور سعودی حکمران خطرناک انداز سے بڑھتے ہوئے ان اعداد و شمار کی طرف توجہ دینا ضروری نہيں سمجھتے بلکہ سارے شہزادوں کی پوری توجہ ملکی دولت کو ذاتی مفاد میں صرف کرنے پر مبذول ہے۔ سعودی روزنامے ریاض الریاض نے لکھا ہے کہ اس سال سعودی عرب کی آمدنی 360 ارب ڈالر ہے۔آئی ایم ایف نے بھی لکھا ہے کہ توقع کی جاتی ہے کہ مالی سال کے آخر تک سعودی عرب میں 2012 کے آخر تک بجٹ سرپلس کی شرح 410 ارب سعودی ریال ہوگی۔واشنگٹن پوسٹ نے غربت و بے روزگاری اور رہائش سے محروم عوام کی دولت سے خورد برد شدہ سعودی بادشاہ عبداللہ بن عبدالعزیز آل سعود کی ذاتی دولت کا تخمینہ 18 ارب ڈالر ہے اور یوں سعودی بادشاہ دنیا کا تیسرے بڑے مالدار بادشاہ کے عنوان سے پہچانے جاتے ہیں۔ دریں اثناء سعودی دارالحکومت ریاض میں متعدد غریب محلوں کے علاوہ کئی ٹین کالونیاں بھی ہیں جہاں کے باسی مختلف بیماریوں میں مبتلا ہونے کے ساتھ ساتھ شدید بےروزگاری اور غربت میں مبتلا ہیں اور ان کے لئے زندگی کے کم از کم وسائل بھی دستیاب نہیں ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔/110